عمران خان کے مستقبل کی بہترین اور درست عکاسی انتہائی مزاحیہ پیرائے میں shocialmedia.com


عمران خان کے مستقبل کی ویڈیو Great Prediction… by muhammad-jameel-shahzad
عمران خان کے مستقبل کی بہترین اور درست عکاسی انتہائی مزاحیہ پیرائے میں
shocialmedia.com

آمران سیریز حصہ اول بشکریہ عامر لیاقت، روزنامہ جنگ 11 دسمبر 2015

عمران سیریز (۱)…..’’بدترین حماقت‘‘

…لاؤڈ اسپیکر…

جاسوسی ادب کی قدآور شخصیت اور عمران جیسے ’’مشہور‘‘ مگر ’’افسانوی‘‘ اور ’’احمق جاسوس‘‘ کا کردار تخلیق کرنے والے ابن صفی کے نزدیک عمران ایک ٹیڑھی ، درشت ، سخت گیر اور ضدی شخصیت کا مالک ہے …..’’گھر کا بھیدی‘‘ میں اُنہوں نے عمران کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ عمران کی شخصیت اتنی غیرمتوازن کیوں ہے ؟ وہ ہر معاملے کو ہنسی میں کیوں اُڑا دیتا ہے ؟ والدین کا احترام اُس طرح کیوں نہیں کرتا جیسے کرنا چاہئے؟….ان کے نزدیک اِس کے پیچھے بھی ایک طویل کہانی ہے….بچپن میں ماں اُسے نماز ، روزے سے لگانا چاہتی تھی لیکن باپ نے ایک ’’مشنری اسکول ‘‘میں داخل کرا دیا….والد سخت گیر آدمی تھے اوراپنے سامنے کسی کی چلنے نہ دیتے تھے….لہذا عمران بچپن ہی سے دُہری زندگی گزارنے کا عادی ہوتا گیا…. باہر کچھ ہوتا تھا اور گھر میں کچھ … اور اِس میں عمران کو مزا بھی بہت آتا تھامشن اسکول اور گھریلو تربیت کے تضاد نے اُسے بچپن ہی سے ذہنی کش مکش میں مبتلا کر دیا تھا اور ہر چیز کا مضحکہ اُڑا دینے کی عادت پڑتی جا رہی تھی‘‘…. آسان لفظوں میںیوں سمجھ لیجیے کہ وہ اپنے مزاج کی کجی کے سبب قریباً ’’نفسیاتی ‘‘ ہوچکا تھا ….اور اب اُس کا مرض اِس خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا کہ طبیبوںنے اُسے ’’لاعلاج‘‘ قرار دے دیا تھا….بہرحال آئیے آج سے ہم عمران سیریز کی نئی کہانیاں دیگر ’’کرداروں ‘‘کی ’’رنگینیوں‘‘ اوراُن کی ’’سنگینیوں‘‘ کے ساتھ ہفتے میں دو بار پڑھنے کا لطف حاصل کرتے ہیں….
کل صبح جب صفدر ، جولیا اور جوزف جیسے ہی عمران کے گھر پہنچے تو اُن کا منہ بنا ہوا تھا….عمران حسبِ عادت علی الصبح ہی اپنے کتوں کے ساتھ دوڑ لگانے کے بعدسلیمان اور تھریسیا کے ساتھ پائیں باغ میں بیٹھا کافی کی چسکیاں لے رہا تھا جبکہ سلیمان ہزار روپے کے ایک نوٹ کو آہستہ آہستہ ’’گول‘‘ کرنے میں مصروف تھاتاکہ ’’سونگھنے ‘‘ میں آسانی ہو….عمران نے تینوں کی نگاہوں میں سوالات کا ایک بڑھتا ہوا ’’سونامی‘‘ بھانپ لیا اور سلیمان کو اشارہ کیا کہ وہ اندر چلا جائے تاکہ کوئی اُسے نوٹ ’’گول ‘‘ کرتا ہوا نہ دیکھے ، اِسی اثنا میں صفدر نے عمران کے قریب آکر اخبار اُس کے ہاتھ میں تھما یا اور کہا کہ ’’تم نے پڑھا کہ آج تمہارا کہا ہوا اخبار میں کس طرح چھپا ہے ؟ـ‘‘….عمران نے ایک اچٹتی سی نگاہ اخبار پر ڈالی اور صفدرکی سنی ان سنی کرتے ہوئے یکایک جولیاکو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ تم تو جانتی ہی ہو کہ میں اُردو اخبار نہیں پڑھتا….مجھے اردو پڑھنی ہی نہیں آتی ‘‘ اور یہ کہتے ہوئے وہ اپنے جوگرز کے فیتے کھولنے کے لئے جھک گیا….قبل اِس کے کہ صفدر کچھ کہتا جوزف نے عمران کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’’ٹھیک ہے تمہیں اُردو پڑھنانہیں آتی مگر جو انٹرویو تم نے انگریزی میں دیا تھا وہ اُردو اخباروں میں بھی چھپا ہے ، آج جب ہم تمہاری طرف آنے کے لئے نکلے تو سنگ ہی نے ہم سے انتہائی تشویش ناک انداز میں صرف اتنا پوچھا تھا کہ ’’یہ عمران کا کون سا روپ ہے ؟ عمران، ایکس ٹو، رانا تہور علی یاپرنس آف ڈھپ‘‘ اور تم یقین کرو کہ اِس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘‘…..’’مگر اِس میں غلط کیا ہے ‘‘…..اب عمران کی ضدی طبیعت بیدا ر ہوچکی تھی لیکن وہ ابھی تک اپنے آپ پر قابو رکھے ہوئے تھا…..’’غلط یہ ہے کہ تم نے دونوں کو احمق کہا ہے ‘‘جولیا نے تیز آواز میں کہا…..’’تو پھر؟‘‘…..اُس کے انداز میں ہٹ دھرمی اب بھی نمایا ں تھی…..’’یار اِن میں سے ایک ہمارا ملک ہے ، تم اپنے ملک کے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہو کہ اِس نے حماقت کی ہے ؟‘‘ صفدر نے قدرے ناراضی سے جھنجھلا کر عمران سے کہا …..’’میری مرضی میں کچھ بھی کہوں، تمہیں میرے انٹرویو میں غلطیاں تونظر آرہی ہیں لیکن ’’اُنہوں‘‘ نے بھی تو اپنے وعدے پورےنہیںکئے، میں کس قدر اُمید سے ’’پراچی‘‘گیا تھا، مجھے یقین دلایاگیا تھا کہ میں ہی وہاں سے فتح یاب ہوں گا لیکن نتائج تو اِس کے برعکس نکلے، لہذا یہ میرا حق ہے کہ میں پاک لینڈ اور اُس کی فوج کے بارے میں جو چاہوں کہوں…..ویسے تم دانشوروں نے اُس میں یہ نہیں پڑھا کہ صرف میں ہی پاک لینڈ کی فوج کو قائل کر سکتا ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس کے لہجے میں اچانک روایتی تکبر اُبھر آیا جبکہ ماتھے پر پڑنے والی لکیریں مزید گہری ہوگئیں اور ایک بلاوجہ کی ’’فاتحانہ مسکراہٹ‘‘ اُس کے چہرے کو کسی ’’کنٹینر‘‘ کا بالائی حصہ سمجھ کر ناچنے لگی ….. اِسی دوران عمران کا نوکر سلیمان اندر سے بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا ’’اُس نے پھر آپ کی ذات پر حملہ کیا ہے ،وہ آپ کو مسلسل اذیت پہنچانے میں مصروف ہے لیکن آپ نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں‘‘…..عمران نے سلیمان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئےکہا کہ ’’تمہیں معلوم ہے نا کہ میں ایکس ٹو بھی ہوں ، تو پھریہ کیسے ممکن ہے کہ اُس کے خلاف کچھ نہ ہورہا ہو، تقریباً روزانہ ہی اُس کی ماں کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں اور تم تو جانتے ہی ہو کہ اِس بہترین ’’Work‘‘ کے لئےمیں نے ’’امان ٹِرک‘‘ کوٹاسک دے دیا ہے اور ہمارے سارے ’’خفیہ کارندے‘‘ اُس کی ماںکو مسلسل گالیاں دینے میں مصرو ف ہیں‘‘…..یہ سنتے ہی سلیمان کے چہرے پر ایسے مکروہ تاثرات اُبھرے کہ جیسے اُس کا مقصد پورا ہورہا ہو…..عین اُسی وقت تھریسیا نے عمران کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’’چلو اندر چلتے ہیں، جوزف، جولیا اور صفدر بھی اندر ہی آجائیں گے ، آپ چینج کرلیں اور وہ نوٹ بھی ’’گول ‘‘ ہوچکا ہے بس تین چار لائنوں کے بعد آجائیں پھر ہم چلتے ہیں کیونکہ علامہ دہشت ناک کی جس معتقد طالبہ شیلا دھنی رام کو آ پ نے ’’رام‘‘ کیا ہے وہ آپ کا انتظار کررہی ہے، اِن11مہینوں میں آپ بہت اذیت سے گزرے ہیں لہذا تھوڑا ’’انجوائے‘‘ کرلیں اُس کے بعد ’’پراچی‘‘ کا مسئلہ بھی حل کرلیں گے ‘‘…..’’لیکن وہ حماقت والا بیان جس میں آپ نے کہا ہے کہ ’’ٹنڈیا اور پاک لینڈ دونوں نے حماقتیں کی ہیں، یہ آپ کا ایک خطرناک مؤقف ہے جس کی وجہ سے ہمیں مستقبل میں بھی مسترد کیا جاسکتا ہے ‘‘ صفدر کی بات ابھی جاری تھی کہ اچانک عمران کا سیل فون وائبریٹ کرنے لگا، اُس نے اسکرین پر نام دیکھ کر ہنستے ہوئے فون اُٹھایا اور پوچھا ’’ہاں کیا رپورٹ ہے‘‘…..اور پھر دوسری جانب سے جواب سننےکے بعد قہقہہ لگاتے ہوئے فون رکھ دیا…..’’کون تھا؟‘‘ تھریسیا نے پوچھا…..’’ایجنٹ ایکس تھا، اُس نے آج دوپہر سےاُس کے خلاف پاک لینڈ کے ٹی وی کے ایم ڈی کا ٹرینڈ چلادیا ہے جس کے بعد ٹوئٹر پر ہمارے جھوٹے ٹرینڈ کی تعداد ہزار تک پہنچ گئی ہے ‘‘ عمران نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا …..’’لیکن ابھی ابھی اُس نے تردید کردی ہے بلکہ ہمیں جھوٹا بھی قرار دے دیا ہے ‘‘ صفدر نے اپنے موبائل کی اسکرین عمران کے سامنے کرتے ہوئے کہا …..عمران کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور وہ ’’ٹائیگر‘‘ کی طرح اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگا اُسے اِس بات سے اُلجھن ہورہی تھی کہ اُس کے چاہنے والے بڑھتے کیوں جارہے ہیں کہ اچانک ایک بار پھراُس کا موبائل وائبریٹ کرنے لگا لیکن اسکرین پر ’’No ID‘‘ دیکھتے ہی اُس نے کانپتے ہاتھوں سے فون اُٹھایا اور دوسری جانب سے بھاری آوازمیں صرف اِتنا ہی کہا گیا کہ ’’عمران! آج کابیان تمہاری بدترین حماقت ہے …..یاد رکھناـ‘‘!!!!